ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طلاق آرڈیننس مسلم خواتین کو منظور نہیں:ڈاکٹراسماء زہرا

طلاق آرڈیننس مسلم خواتین کو منظور نہیں:ڈاکٹراسماء زہرا

Sat, 06 Oct 2018 21:36:39    S.O. News Service

بنگلورو،6؍اکتوبر(ایس او نیوز) بی جے پی حکومت کی طرف سے حال ہی میں تین طلاق کو جرم قرار دیتے ہوئے جاری کئے گئے آر ڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے ویمنس شعبے نے مرکزی حکومت کے اس اقدام کو عاجلانہ اور غیر دستوری قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ اقدام اقلیت سے عداوت پر مبنی ایک سیاسی چال ہے۔ آج اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس شعبے کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عاصفہ نثار نے کہاکہ تین طلاق کے متعلق قانون سازی کے وقت حکومت نے علماء، مذہبی قائدین اور دانشوروں سے مشورہ کیا اور نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا۔ پارلیمان میں اس پر تفصیلی بحث کا موقع بھی فراہم نہیں کیاگیا۔ راجیہ سبھا میں جب اس بل کو منظور کروانے میں حکومت کو منہ کی کھانی پڑی تو اس کے بعد عقبی دروازے سے اسے قانونی شکل دینے کا آرڈیننس جاری کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی طرف سے اپنے ہندو ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے مسلم خواتین سے ہمدردی کا ناٹک رچایا گیا۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسلم شوہروں کی زیادتیوں سے خواتین کو بچانے کے لئے یہ بل بہت ہی ضروری ہے۔ اس قانون کے مطابق شوہر کو طلاق دینے پر تین سال کی سزا متعین کی گئی ہے جس سے خاندان معاشی طور پر تباہ ہوجائے گا اور اس سے بیوی بچوں کو مشکلات اور مصائب کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ تین طلاق آرڈیننس مسلم پرسنل لاء میں راست مداخلت اور دستور میں بنیادی حقوق کے تئیں دی گئی ضمانت کے خلاف ہے۔ تین طلاق کو جرم قرار دینے کے متعلق قانون کے خلاف 5کروڑ سے دستخط لے کر مرکزی لاء کمیشن کو یادداشت پیش کی گئی اور ملک کے طول وعرض میں 250سے زائد احتجاجی ریلیاں منظم کی گئیں جن میں دو کروڑ سے زائد خواتین نے حصہ لیا۔ اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ویمنس شعبے کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر اسماء زہرا نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے، حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی سطح پر حقوق نسوان کے تحفظ کی فہرست میں ہندوستان کا نمبر 136 ہے، گز شتہ دو سالوں میں ملک میں ایک لاکھ سے زائد خواتین کی عصمت ریزی کی گئی ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کے 33800واقعات ہوئے ہیں۔ خود کشی کے لئے مجبور خواتین کا چالیس فیصد حصہ ہندوستانیوں پر مشتمل ہے۔بین مذہبی شادیوں کے سبب سینکڑوں بے قصور جوڑے قتل کئے جارہے ہیں ، اس پر روک لگانے کے لئے بی جے پی یا آر ایس ایس کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے، طلاق جس کا اوسط مسلم معاشرے میں نہ ہونے کے برابر ہے، اسے بی جے پی اپنا ایک انتخابی آلۂ کار بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کی خواتین اپنی عزت وآبرو کے تحفظ کے تئیں پریشان ہیں بی جے پی کی طرف سے تین طلاق کے خلاف آرڈیننس منظور کرنا ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ مسلم خواتین اس آرڈیننس کو قطعاً قبول نہیں کریں گی، اور شریعت اسلامی کو اس قانون سے زیادہ عزیز رکھیں گی۔
 


Share: